تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی
کلام: مبارک عظیم آبادی
تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئییہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی
قدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھےتمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی
دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی
مہمان شاعر: مبارک عظیم آبادی
تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئییہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی
قدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھےتمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی
ہاں یہ بدلی کالی کالی جائے گیپاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گی
توبہ کی رندوں میں گنجائش کہاںجب یہ آئے گی نکالی جائے گی