10 اشعار

تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے

Tamashai to hain tamasha nahin hai

تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہے

یہ کس کی نظر دے گئی روگ یاربسنبھالے سے اب دل سنبھلتا نہیں ہے

تڑپ جائیے گا تڑپ جائیے گاتڑپنا ہمارا تماشا نہیں ہے

بہت پھانس نکلی بہت خار نکلےمگر دل کا کانٹا نکلتا نہیں ہے

یہ ہر شخص کی لن ترانی ہے کیسیکہ ہر آنکھ تو چشم موسیٰ نہیں ہے

سلامت مری وحشت دل سلامتکہاں میری وحشت کا چرچا نہیں ہے

مری جان بھی ہے عنایت تمہارییہ دل بھی تمہارا ہے میرا نہیں ہے

بلائی گئی ان کی محفل میں دنیامگر ایک میرا بلاوا نہیں ہے

ذرا آپ سمجھایئے دل کو ناصحمیں سمجھا رہا ہوں سمجھتا نہیں ہے

تمہیں دیکھنے کو ترستی ہیں آنکھیںبہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں