8 اشعار

پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے

Parde parde mein bahut mujh pe tere waar chale

پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلے

دورئ منزل مقصد کوئی ہم سے پوچھےبیٹھے سو بار ہم اس راہ میں سو بار چلے

کون پامال ہوا اس کی بلا دیکھتی ہےدیکھتا اپنی ہی جو شوخیٔ رفتار چلے

بے پیے چلتا ہے یوں جھوم کے وہ مست شبابجس طرح پی کے کوئی رند قدح خوار چلے

چشم و ابرو کی یہ سازش جگر و دل کو نویدایک کا تیر چلے ایک کی تلوار چلے

کچھ اس انداز سے صیاد نے آزاد کیاجو چلے چھٹ کے قفس سے وہ گرفتار چلے

جس کو رہنا ہو رہے قیدئ زنداں ہو کرہم تو اے ہم نفسو پھاند کے دیوار چلے

پھر مبارکؔ وہی گھنگھور گھٹائیں آئیںجانب مے کدہ پھر رند قدح خوار چلے

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں