5 اشعار

خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم

Khwab ke gaaon mein pale hain hum

خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم

«خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہمپانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہم

چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میںدودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم

خود ہیں اپنے سفر کی دشواریاپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم

تو تو مت کہہ ہمیں برا دنیاتو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم

کیوں ہیں کب تک ہیں کس کی خاطر ہیںبڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں