5 اشعار

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا

Bahana dhoondhte rehte hain koi rone ka

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا

«بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کاہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا

اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافیہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا

جو فصل خواب کی تیار ہے تو یہ جانوکہ وقت آ گیا پھر درد کوئی بونے کا

یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھےخوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا

ہے پاش پاش مگر پھر بھی مسکراتا ہےوہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں