6 اشعار

مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں

Misaal us ki kahan hai koi zamane mein

مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں

«مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میںکہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میں

وہ شکل پگھلی تو ہر شے میں ڈھل گئی جیسےعجیب بات ہوئی ہے اسے بھلانے میں

جو منتظر نہ ملا وہ تو ہم ہیں شرمندہکہ ہم نے دیر لگا دی پلٹ کے آنے میں

لطیف تھا وہ تخیل سے خواب سے نازکگنوا دیا اسے ہم نے ہی آزمانے میں

سمجھ لیا تھا کبھی اک سراب کو دریاپر اک سکون تھا ہم کو فریب کھانے میں

جھکا درخت ہوا سے تو آندھیوں نے کہازیادہ فرق نہیں جھکنے ٹوٹ جانے میں

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں