6 اشعار

دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں

Dast-bardar agar aap ghazab se ho jayein

دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں

«دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیںہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیں

چودھویں شب ہے تو کھڑکی کے گرا دو پردےکون جانے کہ وہ ناراض ہی شب سے ہو جائیں

ایک خوشبو کی طرح پھیلتے ہیں محفل میںایسے الفاظ ادا جو ترے لب سے ہو جائیں

نہ کوئی عشق ہے باقی نہ کوئی پرچم ہےلوگ دیوانے بھلا کس کے سبب سے ہو جائیں

باندھ لو ہاتھ کہ پھیلیں نہ کسی کے آگےسی لو یہ لب کہ کہیں وہ نہ طلب سے ہو جائیں

بات تو چھیڑ مرے دل کوئی قصہ تو سناکیا عجب ان کے بھی جذبات عجب سے ہو جائیں

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں