ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
31 جنوری 2026
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
16
سپیکرز
290
سامعین
سپیکرز
مجروح سلطانپوری — مہمان شاعر
مجروح سلطان پوری بیسویں صدی کے اُن ممتاز اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی شعری روایت اور جدید حسیت کو نہایت سلیقے سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا اور وہ یکم اکتوبر 1919ء کو سلطان پور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ دینی اور مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ طبِ یونانی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مگر فطری میلان شاعری کی طرف تھا۔ جگر مرادآبادی کی شاگردی نے ان کے فنی شعور کو جِلا بخشی اور بہت جلد وہ مشاعروں میں ایک منفرد اور پہچانی جانے والی آواز بن گئے۔مجروح سلطان پوری نے اردو غزل کو رومانویت، نرمی اور سادہ مگر بامعنی اظہار عطا کیا۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور سماجی شعور، انسان دوستی اور حریتِ فکر ان کی شاعری کے نمایاں عناصر ہیں۔ ان کی یہی جرات مندانہ سوچ 1951ء میں قید و بند کا سبب بھی بنی، مگر اس آزمائش نے ان کے فکری استحکام کو مزید مضبوط کیا۔ ان کی غزلیں داخلیت اور خارجی حقیقت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں، جہاں عشق محض جذبہ نہیں بلکہ زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کی عل...