گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے
کلام: مجروح سلطانپوری
گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہے
کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیںہرچند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہے
کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیںہرچند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے