اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
کلام: مجروح سلطانپوری
اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں
دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنمسب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں
دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنمسب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں
ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی
التفات سمجھوں یا بے رخی کہوں اس کورہ گئی خلش بن کر اس کی کم نگاہی بھی