دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
کلام: مجروح سلطانپوری
دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہےہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہے
بن گئی ہے مستی میں دل کی بات ہنگامہقطرہ تھی جو ساغر میں لب تک آ کے طوفاں ہے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہےہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہے
بن گئی ہے مستی میں دل کی بات ہنگامہقطرہ تھی جو ساغر میں لب تک آ کے طوفاں ہے
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیں
کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبرکہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش پا سے راہیں