7 اشعار

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی

Wahi meri kam-naseebi wahi teri be-niyazi

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی

«وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازیمرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہےیہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیںکبھی سوز و ساز رومیؔ کبھی پیچ و تاب رازیؔ

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میںاسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میںکوئی دل کشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسایہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سےکہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں