7 اشعار

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

Aflāk se ātā hai nāloñ kā javāb aakhir

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

«افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایساسوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہےشمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیںلاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبۂ نادر کیا شوکت تیموریہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئیچھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر

تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کاکہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں