3 اشعار

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر

«تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمروہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر

پُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبراور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر

آنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گُفتار تھادل نہ تھا میرا، سراپا ذوقِ استفسار تھا

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں