13 اشعار

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے

Dhab dekhe to hum ne jaana dil mein dhun bhi samai hai

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے

«ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے» میراجی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہےمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہے

صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہےڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے کلی کلی لہرائی ہے

جانی پہچانی صورت کو اب تو آنکھیں ترسیں گینئے شہر میں جیون دیوی نیا روپ بھر لائی ہے

ایک کھلونا ٹوٹ گیا تو اور کئی مل جائیں گےبالک یہ انہونی تجھ کو کس بیری نے سجھائی ہے

دھیان کی دھن ہے امر گیت پہچان لیا تو بولے گاجس نے راہ سے بھٹکایا تھا وہی راہ پر لائی ہے

بیٹھے ہیں پھلواری میں دیکھیں کب کلیاں کھلتی ہیںبھنور بھاؤ تو نہیں ہے کس نے اتنی راہ دکھائی ہے

جب دل گھبرا جاتا ہے تو آپ ہی آپ بہلتا ہےپریم کی ریت اسے جانو پر ہونی کی چترائی ہے

امیدیں ارمان سبھی جل دے جائیں گے جانتے تھےجان جان کے دھوکے کھائے جان کے بات بڑھائی ہے

اپنا رنگ بھلا لگتا ہے کلیاں چٹکیں پھول بنیںپھول پھول یہ جھوم کے بولا کلیو تم کو بدھائی ہے

آبشار کے رنگ تو دیکھے لگن منڈل کیوں یاد نہیںکس کا بیاہ رچا ہے دیکھو ڈھولک ہے شہنائی ہے

ایسے ڈولے من کا بجرا جیسے نین بیچ ہو کجرادل کے اندر دھوم مچی ہے جگ میں اداسی چھائی ہے

لہروں سے لہریں ملتی ہیں ساگر امڈا آتا ہےمنجدھار میں بسنے والے نے ساحل پر جوت جگائی ہے

آخری بات سنائے کوئی آخری بات سنیں کیوں ہم نےاس دنیا میں سب سے پہلے آخری بات سنائی ہے

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں