26 اشعار

طالب علم

Tālib-e-ʿIlm

طالب علم

«طالب علم» میراجی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقتاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں

عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیںاور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کے

پیچھے پیچھے ہی چلا کرتا تھاکس لیے سب کو رہ زیست پہ ہر گام بڑھانے والے

سب سے پیچھے ہی چلا کرتے ہیںعلم میں ایک ہی بنیادی کمی ہے ورنہ

علم ہر ایک زمانے میں ہر ایک شے سے ترقی پاتاآج اقبال یہ کہتا ہے کہ عورت ہی کا شعلہ وہ جس سے یونان

حشر تک علم فلاطون سے رہے گا زندہآج اسکول میں کالج میں مقام اول

عورتوں کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیںآج انگریزی پڑھی جاتی ہے جغرافیہ تاریخ ہر اک علم یہاں

ایسے استاد سکھاتا ہے کہ جیسے ہم کویہی معلوم نہیں ہے کہ جو عالم تھے جو فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب سے

پیچھے پیچھے ہی بڑھا کرتا تھاعورتیں ان سے ذرا آگے رہا کرتی تھیں

عورتیں آج بھی آگے ہی رہا کرتی ہیںعورتیں آج بھی کہتی ہیں ہمارے گیسو

چاہے بکھرے ہوں کہ ایک جوڑے میں پابند کیے بیٹھے ہوںدیکھنے والوں کی ناکام تمناؤں کو

ایک ہی ہاتھ کے پابند ہوا کرتے ہیںوہی اک ہاتھ جو تلوار کو پہلو میں لیے

سب سے آگے ہی چلا کرتا ہےاس کو کچھ علم کی پرواہ نہیں (عورت کی بھی پرواہ کیا ہے)

اس کو کچھ علم نہیں کیسے فلاطوں پل میںاک شرر بن کے بجھا کرتا ہے

سامنے تو ہے مگر تیرا منور چہرہاسی جاہل کو نظر آتا ہے

جو یہ کہتا ہے کہ تیمور کی فوجیں جس وقتاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں

عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیںاور جو عالم تھے جو فاضل تھے وہ یہ سوچتے تھے

ہار کس شخص کی ہے جیت ہے کس کی چھوڑوہم بھی کن چھوٹی سی باتوں میں الجھ بیٹھے ہیں

چلتے چلتے مجھے تیزی سے خیال آیا ہےتیرا یہ جوڑا جو کھل جائے بکھر جائے تو پھر کیا ہوگا

میری تاریخ کہ تیری تاریخپھیل کر آج پہ (اور کل پہ بھی) چھا جائے گی

سوچنے والے کو اک پل میں بتا جائے گیعورتیں پیچھے اگر ہوں بھی تو آگے ہی رہا کرتی ہیں

اور فلاطوں کا چچا ہاتھ میں تلوار لیے آگے بڑھا کرتا ہےلو وہ جوڑا بھی فلاطوں ہی سے کچھ کہنے لگا

اور رستے میں اسے کون ملے گا تیموراور وہ اس سے کہے گا کہ یہاں کیوں آئی

جا مرے پیچھے چلی جا کہ ترے پیچھے ہمیشہ ہر دمعلم یوں رینگتے ہی رینگتے بڑھتا جائے

جیسے ہر بات کے پیچھے ہر باترینگتے رینگتے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے

اور ہر ایک فلاطوں جو شرر بن کے چمکتا ہے وہ مٹ جاتا ہے

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں