6 اشعار

جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی

Jaise hoti aayi hai waise basar ho jaayegi

جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی

«جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی» میراجی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گیزندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی

گیسوئے عکس شب فرقت پریشاں اب بھی ہےہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی

انتظار منزل موہوم کا حاصل یہ ہےایک دن ہم پر عنایت کی نظر ہو جائے گی

سوچتا رہتا ہے دل یہ ساحل امید پرجستجو آئینۂ مد و جزر ہو جائے گی

درد کے مشتاق گستاخی تو ہے لیکن معافاب دعا اندیشہ یہ ہے کارگر ہو جائے گی

سانس کے آغوش میں ہر سانس کا نغمہ یہ ہےایک دن امید ہے ان کو خبر ہو جائے گی

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں