16 اشعار

ایک تھی عورت

Ek Thi Aurat

ایک تھی عورت

«ایک تھی عورت» میراجی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیںیوں ہی چیخو چلاؤ ہنس دو یوں ہی ہاتھ اٹھاؤ ہوا میں ہلاؤ ہلا کر گرا دو

کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہوکبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سے

کبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کرو ایسی باتیںہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے

جو گنجان پیڑوں کی شاخوں سے ٹکرائے دل کو انوکھی پہیلی بجھائے مگر وہ پہیلی سمجھ میں نہ آئےکوئی سرد چشمہ ابلتا ہوا اور مچلتا ہوا یاد آئے

جو ہو دیکھنے میں ٹپکتی ہوئی چند بوندیںمگر اپنی حد سے بڑھے تو بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگر

یہ جی چاہتا ہے کہ ہم ایسے ساگر کی لہروں پہ ایسی ہوا سے بہائیں وہ کشتی جو بہتی نہیں ہےمسافر کو لیکن بہاتی چلی جاتی ہے اور پلٹ کر نہیں آتی ہے ایک گہرے سکوں سے ملاتی چلی جاتی ہے

یہ جی چاہتا ہے کہ ہم بھی یوں ہی چیخیں چلائیں ہنس دیں یوں ہی ہاتھ اٹھائیںہوا میں ہلائیں ہلا کر گرا دیں

کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگے ہیںمگر تم ہمیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لو

مچلنے لگیں تو سنبھالوکبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کریں ایسی باتیں

تمہیں سرسراتی ہوا یاد آئےوہی سرسراتی ہوا جس کے میٹھے فسوں سے دوپٹہ پھسل جاتا ہے

وہی سرسراتی ہوا جو ہر انجان عورت کے بکھرے ہوئے گیسوؤں کوکسی سوئے جنگل پہ گنگھور کالی گھٹا کا نیا بھیس دے کر

جگا دیتی ہےتمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے

ہمیں سرسراتی ہوا یاد آئےیہ جی چاہتا ہے

مگر اپنی حد سے بڑھے تو ہر اک شے بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگروہ ساگر جو بہتے مسافر کو آگے بہاتا نہیں ہے جھکولے دئیے جاتا ہے بس

جھکولے دئیے جاتا ہےاور پھر جی ہی جی میں مسافر یہ کہتا ہے اپنی کہانی نئی تو نہیں ہے

پرانی کہانی میں کیا لطف آئےہمیں آج کس نے کہا تھا پرانی کہانی سناؤ

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں