طبیعت بجھ گئی جب سے ترے دیدار کو ترسے
کلام: صفی اورنگ آبادی
طبیعت بجھ گئی جب سے ترے دیدار کو ترسےاگر اب نیند بھی آتی ہے اٹھ جاتے ہیں بستر سے
ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتابنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے
رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی
مہمان شاعر: صفی اورنگ آبادی
طبیعت بجھ گئی جب سے ترے دیدار کو ترسےاگر اب نیند بھی آتی ہے اٹھ جاتے ہیں بستر سے
ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتابنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے