عشق الزام بھی تو ہوتا ہے
کلام: صفی اورنگ آبادی
عشق الزام بھی تو ہوتا ہےیہ برا کام بھی تو ہوتا ہے
دوستی کچھ مجھی کو تم سے نہیںیہ مرض عام بھی تو ہوتا ہے
رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی
مہمان شاعر: صفی اورنگ آبادی
عشق الزام بھی تو ہوتا ہےیہ برا کام بھی تو ہوتا ہے
دوستی کچھ مجھی کو تم سے نہیںیہ مرض عام بھی تو ہوتا ہے