5 اشعار

پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے

Pehchan mein na aaye the itne bhare hue

پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئےہم خواہشوں کے ملبے میں دب کر مرے ہوئے

اے شخص تو نے غور سے دیکھا نہیں ہمیںہم لوگ تو وہی ہیں ترے رد کرے ہوئے

پی پی کے بھی وہ تجھ کو نہ آیا بہار پرہم ہیں کہ دیکھ دیکھ کے تجھ کو ہرے ہوئے

وہ خوش نصیب دل میں سجایا گیا اسےہم رہ گئے جہاں کے وہیں پر دھرے ہوئے

بیٹھے ہوئے ہیں سہم کے بزم جہاں میں ہمکرتوت اہل بزم جہاں سے ڈرے ہوئے

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں