5 اشعار

پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے

PaDi hai raat koi gham shanaas bhi nahin hai

پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہےشراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے

میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئےمکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے

کسی بھی بات کو لے کر الجھتے رہتے ہیںیہ ملنا جلنا ہم ایسوں کو راس بھی نہیں ہے

یہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہیںہمارے پاس تو اچھا لباس بھی نہیں ہے

یہ شہر تو بہت اچھا ہے اپنے گاؤں سےکہ راہ چلتوں کا کوئی تراس بھی نہیں ہے

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں