5 اشعار

در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر

Dar khol ke mat jhankna hamdam mere andar

در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندراٹھ جاتا ہے آہٹ پہ بھی ماتم مرے اندر

گونجے ہیں ابھی تک کسی مقتول کی چیخیںقائم ہے ابھی خوف کا عالم مرے اندر

میں زد میں فسادوں کی اک آیا ہوا گھر ہوںہر چیز ہے اب درہم و برہم مرے اندر

اب کوئی خوشی مجھ میں پنپتی ہی نہیں ہےآسیب کی صورت ہے ترا غم مرے اندر

میں ہجر کا مارا ہوں سو ہوتا ہے ہر اک شامسورج کی جدائی پہ بھی ماتم مرے اندر

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں