جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ
کلام: ساحر بھوپالی
جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھتُو ، تَو بس رحم کئے جا مری تقصیر نہ دیکھ
ہاۓ زنجیر شکن یہ کششِ فصلِ بہاررقص کر رقص ، گرانبارئ زنجیر نہ دیکھ
وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی
مہمان شاعر: ساحر بھوپالی
جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھتُو ، تَو بس رحم کئے جا مری تقصیر نہ دیکھ
ہاۓ زنجیر شکن یہ کششِ فصلِ بہاررقص کر رقص ، گرانبارئ زنجیر نہ دیکھ