10 اشعار

جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ

Jur'at-e-ishq hai gar qabil-e-ta'zeer na dekh

جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ

«جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھتُو ، تَو بس رحم کئے جا مری تقصیر نہ دیکھ

ہاۓ زنجیر شکن یہ کششِ فصلِ بہاررقص کر رقص ، گرانبارئ زنجیر نہ دیکھ

دیکھنا ہے تجھے ہر حال خواب ہستیکیا نکلتی ہے اب اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ

میں نے مانا کہ نہیں قابلِ بخشش ، لیکنلطف پر اپنے نظر کر ، میری تقصیر نہ دیکھ

ان سے ملنے کی نئی پھر کوئی تدبیر نکالساتھ دینی نہیں گر عشق کی تقدیر نہ دیکھ

چاہتا کیا ہے دلِ زار تغافل سے ترےنفسَ مضمون کو سمجھ شوخئ تحریر نہ دیکھ

بے پناہی تجلّی سے نہ گھبرا ہرگزدل کو بے خوف بنا، حسن کی تسخیر نہ دیکھ

چھین لے دشتِ مشّیت سے بس لوح و قلمہو جفا تجھ سے اگر کاتبِ تقدیر نہ دیکھ

رنگ خاکوں میں بھرے جا یونہی خونِ دل سےکون زیادہ ہے حسین، شوق کی تصویر نہ دیکھ

کفر توڑے جا خدایانِ ستم کے ساحرعشق ہوتا ہے اگر جبر سے دلگیر نہ دیکھ

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں