ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا
کلام: ساحر بھوپالی
ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارانہ تو عرض غم کا یارا نہ کہے بغیر چارا
کہیں اس سے حال کیا جو نہ سمجھ سکے اشاراغم عشق کو یہ ذلت نہیں حشر تک گوارا
وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی
مہمان شاعر: ساحر بھوپالی
ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارانہ تو عرض غم کا یارا نہ کہے بغیر چارا
کہیں اس سے حال کیا جو نہ سمجھ سکے اشاراغم عشق کو یہ ذلت نہیں حشر تک گوارا
یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہےاور تصور میں وہ ظالم بے دھڑک آ جائے ہے
بیٹھے بیٹھے یاد جب وہ بے وفا آ جائے ہےیوں لگے ہے جیسے دل پہلو سے نکلا جائے ہے