جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں
کلام: ساحر بھوپالی
جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیںوہ پھر مجھے دیوانہ بنانے میں لگے ہیں
مر مر کے کئے جاتے ہیں ہم یاد انہیں یاںاور وہ ہمیں واں دل سے بھلانے میں لگے ہیں
وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی
مہمان شاعر: ساحر بھوپالی
جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیںوہ پھر مجھے دیوانہ بنانے میں لگے ہیں
مر مر کے کئے جاتے ہیں ہم یاد انہیں یاںاور وہ ہمیں واں دل سے بھلانے میں لگے ہیں
برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہےرونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانہ ہے
کچھ کم نہ تھا ان کا غم اس پر غم ہستی بھیمر مر کے سہی لیکن یہ بوجھ اٹھانا ہے