نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے
کلام: ساحر بھوپالی
نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئےوہ زندگی تو مصیبت ہے آدمی کے لئے
او بے نیاز مرے کچھ خبر بھی ہے تجھ کومٹا رہا ہوں میں خود کو تری خوشی کے لئے
وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی
مہمان شاعر: ساحر بھوپالی
نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئےوہ زندگی تو مصیبت ہے آدمی کے لئے
او بے نیاز مرے کچھ خبر بھی ہے تجھ کومٹا رہا ہوں میں خود کو تری خوشی کے لئے
سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہمتِرے عشق میں بے نشاں ہو گئے ہم
فسانہ غمِ ہجر کا کہتے کہتےخود عبرت کی اک داستاں ہو گئے ہم
سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگیگویا ہے تیری یاد مسیحائے زندگی
کیوں دم بدم فزوں ہے تمنائے زندگیشاید کہ غم ہوا ہے شناسائے زندگی