دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
کلام: ساحر بھوپالی
دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیںزندگی میری عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں
میں تیری بات بارگاہ ناز میں کیا پیش کروںمیری جھولی میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی
مہمان شاعر: ساحر بھوپالی
دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیںزندگی میری عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں
میں تیری بات بارگاہ ناز میں کیا پیش کروںمیری جھولی میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوااک قیامت آپ کا وعدہ ہوا
وہ تو الزام جفا سے بچ گئےعشق میرا مفت میں رسوا ہوا