8 اشعار

تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے

Tujh par meri mohabbat qurban ho na jaye

تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے

«تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائےیہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے

اللہ ری بے نقابی اس جان مدعا کیمیری نگاہ حسرت حیران ہو نہ جائے

میری طرف نہ دیکھو اپنی نظر کو روکودنیائے عاشقی میں ہیجان ہو نہ جائے

پلکوں پہ رک گیا ہے آ کر جو ایک آنسویہ قطرہ بڑھتے بڑھتے طوفان ہو نہ جائے

حد ستم تو ہے بھی حد وفا نہیں ہےظالم ترا ستم بھی احسان ہو نہ جائے

ہوتی نہیں ہے وقعت ہوتی نہیں ہے عزتجب تک کہ کوئی انساں انسان ہو نہ جائے

اس وقت تک مکمل ہوتا نہیں ہے کوئیجب تک کہ خود کو اپنی پہچان ہو نہ جائے

بہزادؔ اس لئے میں کہتا نہیں ہوں دل کیڈرتا ہوں سن کے دنیا حیران ہو نہ جائے

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں