9 اشعار

محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے

Mohabbat mustaqil kaif aafreen maloom hoti hai

محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے

«محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہےخلش دل میں جہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے

ترے جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہےنظر بھی ایک موج تہ نشیں معلوم ہوتی ہے

نقوش پا کے صدقے بندگئ عشق کے قرباںمجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے

مری رگ رگ میں یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلیکہیں ظاہر نہیں ہوتی کہیں معلوم ہوتی ہے

یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوشحسیں جو چیز ہوتی ہے حسیں معلوم ہوتی ہے

امیدیں توڑ دے میرے دل مضطر خدا حافظزبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے

اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مرے ساقییہاں کی سر زمیں خلد بریں معلوم ہوتی ہے

ارے اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو جس کو کہتا ہےیہ شے دل میں نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے

کسی کے پائے نازک پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتیمجھے بہزادؔ یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں