اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
کلام: وصی شاہ
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میںدھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میںتم مری روح کے اجالوں میں
زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: وصی شاہ
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میںدھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میںتم مری روح کے اجالوں میں
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دومیں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہےاس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو