10 اشعار

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

Apne Ehsaas Se Chhoo Kar Mujhe Sandal Kar Do

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

«اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دومیں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو

نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہےاس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو

تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگواپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو

اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گےمیرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو

دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پراس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو

جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہےاس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو

تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کیاور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو

مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سےاپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو

اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہےایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو

مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناںاور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں