جان سے مار دے مجھے لیکن
جان سے مار دے مجھے لیکنچھوڑ جانے کا مجھ پر ظلم نہ کر
زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: وصی شاہ
جان سے مار دے مجھے لیکنچھوڑ جانے کا مجھ پر ظلم نہ کر
مگر یہ طے ہے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوںمِرے لیے وہ بھَلے بیقرار ہو کہ نہ ہو
میں دُھوپ بن نہیں سکتا وصیؔ کسی کے لیےمِرے لیے کوئی اَبرِ بہار ہو کہ نہ ہو
کبھی یوں بھی تو ہوکہ بادل برسے
اور تیری یاد مجھےبھیگ جانے دے ساری
گر پیادہ بھی کوئی جیت کے نکلا تو تِرااور بازی میں کوئی شاہ بھی ہارا، میرا
دل بھروسہ جو بہت کرنے لگا ہے اُس پرمجھ کو اک روز ڈبوئے گا، سہارا میرا
یہ بھی ممکن ہے کسی روز نہ پہچانوں اُسے،وہ جو ہر بار نیا بھیس بدل لیتا ہے۔۔
بارہا مجھ سے کہا تھا میرے یاروں نے وصی،عشق دریا ہے جو بچوں کو نگل لیتا ہے۔