آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
کلام: وصی شاہ
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتییادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹےاس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: وصی شاہ
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتییادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹےاس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگاایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرناگر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتےتو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہدعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے