9 اشعار

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

Ab jo laute ho itne saalon mein

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

«اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 سیکنڈ ہے۔

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میںدھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں

تم مری آنکھ کے سمندر میںتم مری روح کے اجالوں میں

پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میںکون آیا مرے خیالوں میں

میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیاتجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں

میری خوشیوں کی کائنات بھی توتو ہی دکھ درد کے حوالوں میں

جب ترا دوستوں میں ذکر آئےٹیس اٹھتی ہے دل کے چھالوں میں

تم سے آباد ہے یہ تنہائیتم ہی روشن ہو گھر کے جالوں میں

سانولی شام کی طرح ہے وہوہ نہ گوروں میں ہے نہ کالوں میں

کیا اسے یاد آ رہا ہوں وصیؔرنگ ابھرے ہیں اس کے گالوں میں

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں