جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گا
جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گامیری عمر تو بیت گئی وہ اب کیا اپنا ڈھب بدلے گا
محکوموں کو ملے گی اک دن سب کا سب بدلے گااور عمر کٹی ہے سنتے سنتے اب بدلے گا اب بدلے گا
زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: وصی شاہ
جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گامیری عمر تو بیت گئی وہ اب کیا اپنا ڈھب بدلے گا
محکوموں کو ملے گی اک دن سب کا سب بدلے گااور عمر کٹی ہے سنتے سنتے اب بدلے گا اب بدلے گا
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیںتری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سےکوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میںدھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہےباغ کا باغ اسے دیکھنے آیا ہوا ہے
ہے یہ نفرت کے محبت نہیں معلوم مگرایک ہی شخص میرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
ایک دوجے کو بوڑھا ہوتے دیکھا ہےبولو اور محبت کس کو کہتے ہیں
خدا ہی جانے کہ ان کی سزائیں کیا ہوں گیشراب پی کے بھی جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں
دلِ مکار کو مکار پکارا جائےکیوں نہ غدار کو غدار پکارا جائے
ہم نے مانا کہ کہاں لوٹتی ہے عمرِ رواںدل کے بہلانے کو ایک بار پکارا جائے
کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتاتو بڑے پیار سے چاوسے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کواور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں
ہم نے نیکی کا کوئی کام کیا ہو گا وصیجو دیئے رب نے ہمیں آپ سے پیارے احباب
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھاہر کوئی ہائے جنوں ہائے جنوں کرتا تھا
حال دل اس کو سناتا تھا میں گھنٹوں گھنٹوںسنگ دل ایسا کہ ہاں کرتا نہ ہوں کرتا تھا
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہےاے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلابمرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے