مقرر

گلشن شیرازی

@FIRFIR512

32
پیش کردہ کلام
32
محفلوں میں شرکت
گلشن شیرازی کی آواز میں

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

کلام: باقر مہدی · محفل: مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی · 2026-04-24

«اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کایہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا

ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسےسادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے Nalaan bhi hai jo lab pe liye iltemaas hai تنویر دانش
  2. 02 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی Jabeen par khaak hai yeh kis ke dar ki مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے Kyo'n kar na laaye rang gulistaan naye naye رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 05 ہم اہل خوف Hum Ahl-e-Khauf اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  5. 06 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں Khaki paikar hai magar khak nasheenon se nahin راکب مختار آواز میں دستیاب
  6. 07 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی Lab pe phir aayi hai faryaad Rasool-e-Arabi بہزاد لکھنوی
  7. 08 ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے Tere baghair masaafat ka gham kahan kam hai اختر شمار آواز میں دستیاب
  8. 09 ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف Saari khalqat ek taraf thi aur deewane ek taraf اختر شمار آواز میں دستیاب