6 اشعار

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

Ashk mere hain magar dida-e-nam hai us ka

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

«اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کایہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا

ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسےسادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا

فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیںقربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا

سنگ و آہن کا بڑا شہر بھی ویرانہ لگےیہ جنوں میرا ہے اور دشت ستم ہے اس کا

درد بن کر مرے سینے میں پڑا رہتا ہےیہ مرا دل ہے کہ اک نقش قدم ہے اس کا؟

ایک طوفاں کی طرح کب سے کنارہ کش ہےپھر بھی باقرؔ مری نظروں میں بھرم ہے اس کا

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں