نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
کلام: تنویر دانش
نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہےتیرے دہن کی آج بھی پانی کو پیاس ہے
تطہیر کی مہک سے معطر ہے یہ فضالگتا ہے کربلا ہی یہیں آس پاس ہے
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہےتیرے دہن کی آج بھی پانی کو پیاس ہے
تطہیر کی مہک سے معطر ہے یہ فضالگتا ہے کربلا ہی یہیں آس پاس ہے