مقرر

گلشن شیرازی

@FIRFIR512

32
پیش کردہ کلام
32
محفلوں میں شرکت
گلشن شیرازی کی آواز میں

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

کلام: اختر شمار · محفل: تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار · 2026-04-17

«ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف» اختر شمار کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرفتیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف

ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میںدھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے Nalaan bhi hai jo lab pe liye iltemaas hai تنویر دانش
  2. 02 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی Jabeen par khaak hai yeh kis ke dar ki مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے Kyo'n kar na laaye rang gulistaan naye naye رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 04 اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا Ashk mere hain magar dida-e-nam hai us ka باقر مہدی آواز میں دستیاب
  5. 05 ہم اہل خوف Hum Ahl-e-Khauf اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  6. 06 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں Khaki paikar hai magar khak nasheenon se nahin راکب مختار آواز میں دستیاب
  7. 07 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی Lab pe phir aayi hai faryaad Rasool-e-Arabi بہزاد لکھنوی
  8. 08 ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے Tere baghair masaafat ka gham kahan kam hai اختر شمار آواز میں دستیاب