مقرر

گلشن شیرازی

@FIRFIR512

32
پیش کردہ کلام
32
محفلوں میں شرکت
گلشن شیرازی کی آواز میں

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں

کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21

«خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیںشہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں

تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھاصلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے Nalaan bhi hai jo lab pe liye iltemaas hai تنویر دانش
  2. 02 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی Jabeen par khaak hai yeh kis ke dar ki مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے Kyo'n kar na laaye rang gulistaan naye naye رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 04 اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا Ashk mere hain magar dida-e-nam hai us ka باقر مہدی آواز میں دستیاب
  5. 05 ہم اہل خوف Hum Ahl-e-Khauf اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  6. 07 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی Lab pe phir aayi hai faryaad Rasool-e-Arabi بہزاد لکھنوی
  7. 08 ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے Tere baghair masaafat ka gham kahan kam hai اختر شمار آواز میں دستیاب
  8. 09 ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف Saari khalqat ek taraf thi aur deewane ek taraf اختر شمار آواز میں دستیاب