گلشن شیرازی کی آواز میں
نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
کلام: تنویر دانش · محفل: ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام · 2026-05-22
نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہےتیرے دہن کی آج بھی پانی کو پیاس ہے
تطہیر کی مہک سے معطر ہے یہ فضالگتا ہے کربلا ہی یہیں آس پاس ہے