اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا
کلام: باقر مہدی
اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کایہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا
ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسےسادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی
مہمان شاعر: باقر مہدی
اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کایہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا
ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسےسادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا