مقرر

زاہد

@Xahid806

7
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
زاہد کی آواز میں

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے

کلام: شکیل بدیوانی · محفل: اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی) · 2025-12-08

«غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے

میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دیترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta سعید شارق آواز میں دستیاب
  2. 02 اعتراف Aitraaf اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  3. 03 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا Jo chiragh saare bujha chuke unhein intezar kahan raha ادا جعفری آواز میں دستیاب
  4. 05 خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے Khayal o khwab se bahar utha ke rakh do mujhe زین شکیل آواز میں دستیاب
  5. 06 تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے Takhayyul aur hai, nadīda beeni aur hoti hai عرفان ستار آواز میں دستیاب
  6. 07 نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے Na aankhein hi jhapakta hai na koi baat karta hai وزیر آغا آواز میں دستیاب