زاہد کی آواز میں
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے
کلام: وزیر آغا · محفل: اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا) · 2025-11-20
«نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہےبس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے
شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوںزمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے