مقرر

زاہد

@Xahid806

7
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
زاہد کی آواز میں

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے

کلام: وزیر آغا · محفل: اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا) · 2025-11-20

«نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہےبس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے

شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوںزمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta سعید شارق آواز میں دستیاب
  2. 02 اعتراف Aitraaf اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  3. 03 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا Jo chiragh saare bujha chuke unhein intezar kahan raha ادا جعفری آواز میں دستیاب
  4. 04 غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے Gham-e-Ashiqi Se Keh Do Rah-e-Aam Tak Na Pahunche شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  5. 05 خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے Khayal o khwab se bahar utha ke rakh do mujhe زین شکیل آواز میں دستیاب
  6. 06 تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے Takhayyul aur hai, nadīda beeni aur hoti hai عرفان ستار آواز میں دستیاب