مقرر

زاہد

@Xahid806

7
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
زاہد کی آواز میں

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے

کلام: عرفان ستار · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25

«تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے» عرفان ستار کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہےیہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے

عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میںمگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta سعید شارق آواز میں دستیاب
  2. 02 اعتراف Aitraaf اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  3. 03 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا Jo chiragh saare bujha chuke unhein intezar kahan raha ادا جعفری آواز میں دستیاب
  4. 04 غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے Gham-e-Ashiqi Se Keh Do Rah-e-Aam Tak Na Pahunche شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  5. 05 خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے Khayal o khwab se bahar utha ke rakh do mujhe زین شکیل آواز میں دستیاب
  6. 07 نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے Na aankhein hi jhapakta hai na koi baat karta hai وزیر آغا آواز میں دستیاب