زاہد کی آواز میں
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے
کلام: عرفان ستار · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے» عرفان ستار کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہےیہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے
عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میںمگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے