مقرر

زاہد

@Xahid806

7
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
زاہد کی آواز میں

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے

کلام: زین شکیل · محفل: خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ) · 2025-12-06

«خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے !یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے !

ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں !وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے !

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta سعید شارق آواز میں دستیاب
  2. 02 اعتراف Aitraaf اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  3. 03 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا Jo chiragh saare bujha chuke unhein intezar kahan raha ادا جعفری آواز میں دستیاب
  4. 04 غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے Gham-e-Ashiqi Se Keh Do Rah-e-Aam Tak Na Pahunche شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  5. 06 تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے Takhayyul aur hai, nadīda beeni aur hoti hai عرفان ستار آواز میں دستیاب
  6. 07 نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے Na aankhein hi jhapakta hai na koi baat karta hai وزیر آغا آواز میں دستیاب