زاہد کی آواز میں
خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے
کلام: زین شکیل · محفل: خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ) · 2025-12-06
«خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔
خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے !یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے !
ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں !وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے !