غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے
کلام: شکیل بدیوانی
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دیترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دیترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے