مقرر

زاہد

@Xahid806

7
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
زاہد کی آواز میں

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا

کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05

«جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 8 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتاوہ زخم مجھے بار دگر کیوں نہیں لگتا

ہم دونوں کی ویرانی بھی شامل ہے تو یہ دشتکیوں دشت نظر آتا ہے گھر کیوں نہیں لگتا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 02 اعتراف Aitraaf اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  2. 03 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا Jo chiragh saare bujha chuke unhein intezar kahan raha ادا جعفری آواز میں دستیاب
  3. 04 غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے Gham-e-Ashiqi Se Keh Do Rah-e-Aam Tak Na Pahunche شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  4. 05 خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے Khayal o khwab se bahar utha ke rakh do mujhe زین شکیل آواز میں دستیاب
  5. 06 تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے Takhayyul aur hai, nadīda beeni aur hoti hai عرفان ستار آواز میں دستیاب
  6. 07 نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے Na aankhein hi jhapakta hai na koi baat karta hai وزیر آغا آواز میں دستیاب