زاہد کی آواز میں
جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 8 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔
جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتاوہ زخم مجھے بار دگر کیوں نہیں لگتا
ہم دونوں کی ویرانی بھی شامل ہے تو یہ دشتکیوں دشت نظر آتا ہے گھر کیوں نہیں لگتا